Testimonials

از:ڈاکٹر محمد عبدالرافع
سابق صدر مدرس، مدینتہ العلوم، اسکول لال باڑہ ، ناندیڑ
انچارج ،پرنسپل وسنت رائو کاڑے سینئر کالج ، ناندیڑ۔مہاراشٹر
فون نمبر: 9423625914
سید خواجہ حسن نظامی دہلویؒ کے حالات زندگی
سید خواجہ حسن نظامیؒ کی ولادت ۲؍محرم ۱۲۹۲ھ (۲۶؍ ۲۷؍دسمبر ۱۸۷۹ء کو جمرات کے دن صبح صادق کے وقت اندروں کوٹ بستی حضرت نظام الدین اولیاء ان کے آبائی مکان میں ہوئی جو آج بھی موجود ہے اور ’’املی والا مکان‘‘کہلاتا ہے۔ والدین نے نام ’’قاسم علی‘‘ رکھا لیکن ماموںسیّد بہادر علی شاہ صاحب ’’علی حسن‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ شروع میں مضامین پرسیّد محمد علی حسن نظامی چھپتا تھا مگر بعد میں حسن نظامی کے نام سے شائع ہوتارہا۔ علامہ اقبال نے خود اپنے خطوط اور تبصرہ میں ’’حسن نظامی‘‘ لکھا کرتے تھے ۔ حسن نظامی نام عام مقبولیت حاصل کرلی۔
خواجہ صاحب کے والد کا نام (حافظ سیّد عاشق علی نظامی اور والدہ کا نام سیّدہ چہیتی بیگم تھا۔ دو بہنیں حسن بانو اور سکندر جہاں تھی۔ بڑے بھائی کا نامسیّد حسن علی شاہ تھا۔ دونوں بہنوں کے انتقال کے بعد والدہ بیمار ہوئی اور چارمہینے بعد ان کا انتقال ہوا۔ والدہ کے انتقال کے بعد والد حافظ عاشق علی نظامی بیمار ہوئے اور ۲۸؍نومبر ۱۸۸۸ء کو پچاس سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ کفالت کا بار بڑے بھائی سیّد حسن علی شاہ نے اُٹھایا انھوںنے بڑی شفقت اورمحبت سے خواجہ صاحب کی پرورش کی۔
خواجہ حسن نظامیؒ کے والدسیّد عاشق علی صاحب حافظ قرآن تھے اور لکھنا پڑھنا انھیں نہیں آتاتھا۔ ایک دفعہ خواجہ صاحب کے بڑھ بھائی سفر میںتھے ان کا خط والد کے نام آیا تو والد صاحب نے ایک شخص سے خط پڑھوایا جس کا انھیں بڑا رنج ہوا۔ تب انھوں نے خواجہ صاحب سے فرمایا۔ بیٹا تم جلدی جلدی پڑھو تاکہ ہم خط پڑھوانے میں کسی کے محتاج نہ رہیں۔ اُسی دن سے خواجہ صاحب کو لکھنے پڑھے کا شوق پیدا ہوا۔
خواجہ صاحب کی ابتدائی تعلیم نظام الدین اولیاء میں حضرت مولانا اسماعیل کاندھلوی سے لی۔ ا ، ب سے لے کر جلالین اور مشکوٰۃ تک پڑھا۔ صرف ایک دن انگریزی اسکول میں بھی گئے۔ دہلی میں مختلف علماء سے ابودائود اور ترمذی پڑھا۔ آخر میں مولانا یحییٰ نے خواجہ صاحب کو حضرت مولانا رشید احمد صاحب کے مدرسہ میں گنگوہ لے گئے۔ وہاں انھوں نے ڈیڑھ سال تک تعلیم پائی۔
ارادت:خواجہ صاحب والد کے انتقال کے وقت بارہ برس کے تھے۔ انتقال سے ایک سال قبل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان لے جاکر حضرت شاہ اللہ بخش کا مرید کرادیا تھا۔ بعد میں بڑے بھائی کے ساتھ چاچڑاں شریف علاقہ بھاولپور میں خواجہ غلام فرید ؒ کی ملاقات سے شرف یاب ہوئے اور بڑے بھائی کے کہنے پر ان کے ہاتھ پر بھی بیعت کی۔
خواجہ صاحب خود فرماتے تھے کہ ’’مرید ہونے کی ترغیب میرے دل نے دی میں حضرت خواجہ اللہ بخش صاحب اور خواجہ غلام فریدصاحب کو کامل اور مکمل پیر تصور کرتاتھا۔ ایک رات حضرت محبوب الٰہی ؒ کو خواب میں دیکھا کہ حضور بابا صاحب کے مزار پر عرض کیا شیخ میں حاضر ہوا ہوں صبح خود بخود حضرت پیر مہر علی شاہ کی طرف دل مائل ہوا۔ اورمیں نے فوراً ان کے پاس حاضر ہوکر بیعت کرلی۔
خواجہ حسن نظامی نے تصنیف و تالیف کا کام ۱۹۰۰ سے ہی باضابطہ شروع کردیا تھا۔خواجہ حسن نظامی نے پہلا مضمون انڈیا کی نازک حالت کے عنوان سے ’’ انڈیا گزٹ‘‘ ممبئی میں لکھا پھر ’’پیسہ‘‘ اخبار ، وکیل، محزن اور رسالہ ’’صوفی‘‘ میں مسلسل لکھتے رہے۔
پہلی کتاب:خواجہ حسن نظامی کی اولین کتاب ’’مفلسی کا مجرب علاج‘‘ کے نام سے ۱۹۰۰ میں شائی ہوئی۔ جو مولانا جلال الدین سیوطیؒ کی ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے۔ اسی سال سے خواجہ صاحب نے صحافتی اور ادبی زندگی کا آغاز کیا۔
حلقہ نظام المشائخ:۱۹۰۸ء میں خواجہ صاحب نے حلقہ نظام المشائخ قائم کیا۔
پہلا رسالہ:جولائی ۱۹۰۹ء میں خواجہ صاحب نے حلقہ نظام المشائخ کے مقاصد کی تبلیغ کیلئے ملا واحدی دہلوی کے ادارت میں ’’رسالہ نظام المشائخ‘‘ جاری کیا۔
اسلامی ممالک کا سفر:۱۹۱۱ء میں خواجہ حسن نظامی اور ان کے رفقاء نے مصر، شام، فلسطین، حجاز وغیرہ اسلامی ممالک کا سفر کیا۔
اخبار:توحید۱۹۱۳ میں بھیّا احسان الحق نے میرٹھ سے اخبار توحید جاری کیا۔ جس کے خواجہ صاحب مدیر تھے۔ اسی زمانہ میں کانپور کی مسجد کا ہنگامہ ہوااور خواجہ صاحب نے جامع مسجد میں ’’کہو تکبیر‘‘ عنوان سے انگریزوں کے خلاف ایک تقریر کی ۔ اس تقریر کی اشاعت پر اخبار توحید ضبط کرلیا گیا۔
دوسری شادی:۱۹۱۶ء میں سیدہ محبودہ خواجہ بانو نظامی سے شادی ہوئی۔ جن سے پانچ لڑکے ۱)سید حسن نظامی، ۲)سیّد علی نظامی، ۳) زید پاشاہ نظامی، ۴) ابوطالب خواجہ حسن ثانی نظامی ، ۵)مہدی نظامی۔ دولڑکیاں ۱) روحہ بانو نظامی، ۲) کوثر بانو نظامی تولد ہوئی۔ حضرت محمودہ بانوکاانتقال ۱۷؍شعبان ۱۴۰۵ھ مطابق ۸؍مئی ۱۹۸۸ء بروز بدھ صبح ہوا۔ روضے حسن نظامی میں سپرد خاک کیا گیا۔
تصنیف و تالیف:۱۹۱۶ء کے بعد خواجہ صاحب نے کتابیں لکھنے کی طرف زیادہ توجہ کی اور چھوٹی بڑی سوکتابیں اور رسالے تصنیف و تالیف کیئے۔
روزنامچہ :خواجہ صاحب نے اپنا خود نوشت روزنامچہ مسلسل چالیس پینتالیس برس لکھا لیکن باضابطہ طورپر ۱۹۲۴ء سے ان کے وفات جولائی ۱۹۵۵ء تک اپنا روزنامچہ کو ’’رسالہ منادی‘‘ میں شائع کرتے رہے۔ خواجہ صاحب کا روزنامچہ اُردو ادب میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ خواجہ صاحب نے متعدد روزنامے ، دووقتہ، سہ روزہ، ہفتہ واراورماہانہ اخبار، رسالے جاری کیے۔ رسالہ ’’منادی‘‘ ۱۹۶۶ء سے چھپنا شروع ہوا اور سب سے طویل مدت تک خواجہ صاحب نے اسی رسالہ کو ایڈیٹ کیا۔ جو آج بھیسیّد محمد نظامی کی سرپرستی میں عبدالملک نظامی اس کو شائع کررہے ہیں۔
رحلت:مصور فطرتسیّد خواجہ حسن نظامی ۱۰؍ذی الحجہ ۱۳۷۴ھ مطابق ۳۱؍جولائی ۱۹۵۵ء کا دن گزرنے کے بعد مغرب اور عشاء کے درمیان بروز اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں رحلت فرمائی ۔ خواجہ صاحب نے اپنی قبر پچاس برس پہلے ہی بستی نظام الدین دہلی میں تیار کراکر رکھی تھی اسی میں دفن ہوئے۔
حضرت خواجہ حسن نظامی کے خلفاء و جانشین
حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی کی بیماری کے زمانے میں حضرت کے خدمت گاروں نے دریافت کیا کہ مخدوم کے بعد ہمارا کیا ہوگا۔؟فرمایا کہ میرے روضے پر اتنا آتا رہے گا کہ جو تم لوگوں کی کفالت کرے گا۔ کسی نے پھر عرض کیا کہ اس کی تقسیم کون کرےگا؟ مرادیہ ہے کہ روضہ کا متولی کون ہوگا؟ حضرت نے فرمایا کہ جو اپنا حصہ چھوڑدے گا۔ چنانچہ عہد محمد شاہ تک حضرت بابا فرید گنج شکر ؒ کی اولاد روضہ مبارک کی متولی رہی فتوح کی تقسیم چار حصوں میں ہوئی تھی۔
۱۔ فریق اوّل نبیرگان: فریق اوّل کے پہلے حصہ میں حضرت بدرالدین اسحاقؒ کی اولاد یعنی حضرت بابا فریدؒ کے نواسے ہیں۔ چونکہ حضرت نظام الدین اولیاء تمام عمر مجرد رہے اور آپ کی کوئی صلبی اولاد نہیں تھی اور بابافرید صاحب کے نواسوں کو آپ نے اپنی اولاد کی طرح پرورش کیا تھا اس لیے پہلے فریق وہی قرار پائے۔ انھیں ’’نبیرگان‘‘ کہا جاتا ہے۔ حضرت خواجہ حسن نظامی اسی خاندان کی نشانی ہیں۔
۲۔ فریق ثانی ہارونیان: سیر الاولیاء کے مطابق سیّد رفیع الدین ہارون نظام الدین اولیاء کے (بھانجے )بہن کے صاحبزادے تھے ۔ ان کے اولاد کو فریق ثانی۔ ’’ہارونیان کہتے ہیں۔ اس خاندان کا کوئی فرد بقید حیات نہیں۔
۳۔ فریق ثالث قاضی زادگان: یہ حضرت قاضی محی الدین کا شانیؒ کی اولاد ہیں حضرت خواجہ حسن نظامی کی زوجہ محترمہ خواجہ بانو اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
۴۔چوتھا حصہ ہندوستانیان :حضرت ابوبکر چشتی ؒ بھی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے خاص مرید تھے۔ اور ان کے اولاد بھی درگاہ شریف میں مقیم ہے اور چوتھا فریق، ہندوستانیان کہلاتا ہے۔
۲؍فروری ۱۹۵۵ء کے روزنامچے میں خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں کہ ’’مجھے اپنے بچوں سے جو محبت اور تعلق ہے وہ انسانی فطرت سے زیادہ نہیںہے لیکن خواجہ حسن ثانی ابوطالب نظامی اور ان کے چھوٹے بھائی خواجہسیّد مہدی نظامی نے مجھ سے بیعت کی تو میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ان بچوں کے دلوں میں ندامت کی جو محبت رکھی ہے وہ غیر معمولی ہے۔ حضرت خواجہ حسن نظامی نے اپنے دونوں بیٹوں حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی اور خواجہ مہدی نظامی کو خلافت عطا فرمائی۔
۲۸؍ ذی قعدہ ۱۳۷۴ھ یوم چہارشنبہ بعد حمد وصلوٰۃ کے بعد خواجہ حسن نظامیؒ نے اپنے خاندان کے سامنے یہ وصیت کی کہ ’’میں اپنے آقا حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہیؒ کے اس عطیہ کا ذکر کرنا چاہتاہوں جو انھوں نے میرے دادا حضرت مولانا خواجہسیّد محمد امام نظامیؒ سے اپنے پیر کے نواسے کو عطا فرمایاتھا۔ وہ سب میں اپنے فرزند خواجہ سیّد حسن ثانی نظامی دہلوی کو دیتاہوں کہ وہ میرے حضور محبوب پاکؒ کی سب باطنی توجہات کو حاصل کریں اور مجھے یقین ہے کہ جس عمدگی سے وہ اخبار منادی کو چلاتے رہے ہیں اسی طرح حضور محبوب پاکؒ کے سب ارشادات عالیہ کو بھی شائع کرکے آئندہ نسلوں کے لیے وہ چیز مہیا کریں گے۔ جو اس عطیہ تاریخی سے مسلمانوں کو حاصل ہوئیں ۔ یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ حضرت سلطان المشائخ خواجہسیّد نظام الدینؒ اور دوسرے بزرگوں سے جو اعمال و اوراد مجھ تک پہنچے ہیں ان سب کی بھی مکمل اجازت اپنے پیارے فرزند خواجہ سیّد حسن ثانی دہلوی کو دیتا ہوں کہ وہ دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکیں۔ اور جن لوگوں کو ان اعمال خاص کا اہل اور مستحق پائیں ان کو میری طرف سے اجازت دیں اور ان کی اولاد بھی نظامیہ سلسلے کو جاری رکھے۔ اورمیرے دوسرے بچوں کو بھی اللہ تعالیٰ یہ نعمتیں عطا فرمائے۔ دعا گو۔خواجہ حسن نظامیؒ
اس طرح حضرت خواجہ ابو طالب حسن ثانی نظامیؒ خواجہ حسن نظامی نہ صرف خواجہ حسن نظامیؒ کے خلیفہ و جانشین ہیں بلکہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ کے بھی جانشین بھی ہیں۔(بحوالہ خواجہ حسن نظامی حیات وخدمات مصنف ڈاکٹر محمد عبدالرافع)
حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی کا تعلق حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ سے تین واسطوں سے ہے۔ والد کی جانب سے اول نبیرگان، دوم خواہر زادگان اور والدہ کی جانب سے قاضی زادگان اسی طرح آپ ہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی اور حضرت خواجہ حسن نظامیؒ کے حقیقی متولی اور جانشین ہوئے۔ حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی فخر دہلی حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی کی سنت میں مجرد رہے اس لیے آپ نے اپنی وفات سے قبل اپنے چھوٹے بھائی حضرت خواجہ سیّد مہدی نظامی کے فرزند ارجمند حضرت خواجہ سیّد محمد نظامی مدظلہ العالیٰ کو اپنا جانشین وسجادہ نشین فرمایا۔
حضرت خواجہ سید محمد نظامی دہلی رتن کا انتقال ۷؍فروری ۲۰۲۶ء کو ہوا۔ انتقال کے بعد چشتیہ نظامی سلسلہ کے جانشین کے طورپر سید محمد شافع نظامی سجادہ نشین مقرر ہوئے۔
ایک مرتبہ میں نےاپنے مرشد خواجہ حسن ثانی نظامی سے پوچھا تھا کہ آپ کے جانشین کون ہوں گے۔ آپ نے مسکرا کر فرمایا میرے سید اور سید کے شافی۔اس وقت شافی صاحب چھوٹے بچّے تھے۔(بحوالہ مجلہ خراج عقیدت خواجہ سیّد محمد نظامیؒ، از:قلم علیشا نظامی(
خواجہ ابو طالب حسن ثانی نظامیؒ ایک عہد آفرین شخصیت
’’۲؍فروری ۱۹۵۵ء کے روزنامچے میں خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں کہ ’’مجھے اپنے بچوں سے جو محبت اور تعلق ہے وہ انسانی فطرت سے زیادہ نہیںہے لیکن خواجہ حسن ثانی ابوطالب نظامی اور ان کے چھوٹے بھائی خواجہسیّد مہدی نظامی نے مجھ سے بیعت کی تو میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ان بچوں کے دلوں میں ندامت کی جو محبت رکھی ہے وہ غیر معمولی ہے۔ حضرت خواجہ حسن نظامی نے اپنے دونوں بیٹوں حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی اور خواجہ مہدی نظامی کو خلافت عطا فرمائی۔ ۲۸؍ ذی قعدہ ۱۳۷۴ھ یوم چہارشنبہ بعد حمد وصلوٰۃ کے بعد خواجہ حسن نظامیؒ نے اپنے خاندان کے سامنے یہ وصیت کی کہ ’’میں اپنے آقا حضرت سلطان المشائخ محبوب الٰہیؒ کے اس عطیہ کا ذکر کرنا چاہتاہوں جو انھوں نے میرے دادا حضرت مولانا خواجہسیّد محمد امام نظامیؒ سے اپنے پیر کے نواسے کو عطا فرمایاتھا۔ وہ سب میں اپنے فرزند خواجہ سیّد حسن ثانی نظامی دہلوی کو دیتاہوں کہ وہ میرے حضور محبوب پاکؒ کی سب باطنی توجہات کو حاصل کریں اور مجھے یقین ہے کہ جس عمدگی سے وہ اخبار منادی کو چلاتے رہے ہیں اسی طرح حضور محبوب پاکؒ کے سب ارشادات عالیہ کو بھی شائع کرکے آئندہ نسلوں کے لیے وہ چیز مہیا کریں گے۔ جو اس عطیہ تاریخی سے مسلمانوں کو حاصل ہوئیں ۔ یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ حضرت سلطان المشائخ خواجہسیّد نظام الدینؒ اور دوسرے بزرگوں سے جو اعمال و اوراد مجھ تک پہنچے ہیں ان سب کی بھی مکمل اجازت اپنے پیارے فرزند خواجہ سیّد حسن ثانی دہلوی کو دیتا ہوں کہ وہ دوسرے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکیں۔ اور جن لوگوں کو ان اعمال خاص کا اہل اور مستحق پائیں ان کو میری طرف سے اجازت دیں اور ان کی اولاد بھی نظامیہ سلسلے کو جاری رکھے۔ اورمیرے دوسرے بچوں کو بھی اللہ تعالیٰ یہ نعمتیں عطا فرمائے۔ دعا گو۔خواجہ حسن نظامیؒ اس طرح حضرت خواجہ ابو طالب حسن ثانی نظامیؒ خواجہ حسن نظامی نہ صرف خواجہ حسن نظامیؒ کے خلیفہ و جانشین ہیں بلکہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ کے بھی جانشین بھی ہیں۔(بحوالہ خواجہ حسن نظامی حیات وخدمات مصنف ڈاکٹر محمد عبدالرافع( حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی کا تعلق حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ سے تین واسطوں سے ہے۔ والد کی جانب سے اول نبیرگان، دوم خواہر زادگان اور والدہ کی جانب سے قاضی زادگان اسی طرح آپ ہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی اور حضرت خواجہ حسن نظامیؒ کے حقیقی متولی اور جانشین ہوئے۔‘‘(بحوالہ حسن نظامی کے خلفاء و جانشین، از:محمد عبدالرافع) حضرت خواجہ سیّد حسن ثانی نظامیؒ ۱۵؍مئی ۱۹۳۱ء کو شمس العلماء مصور فطرت حضرت خواجہ حسن نظامیؒ اور خواجہ محمودہ بانو نظامی کے یہاں پیدا ہوئے۔ آپ نجیب الطرفین تھے آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حُسینؒ سے ہوتا ہوا رسالت مآب صلی اللہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ اور والدہ کی جانب سےیہ سلسلہ حضرت بابافریدالدین گنج شکرؒ تک پہنچتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ۔آپ کے والد حضرت خواجہ حسن نظامیؒ ایک جید عالم اور صاحب طرز ادیب تھے اور والدہ بھی ایک باکمال خاتون تھی جس کا اثر آپ کی زندگی پر بہت گہرا ہوا۔ اور آپ کو بچپن سےہی ادبی، ثقافتی اور روحانی فضا میں زندگی گزارنے کا موقع ملا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو بچپن ہی سے دہلی کی ادبی، تہذیبی، ثقافتی، روحانی، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کی روایات سے ایسی محبت ہوئی کہ زندگی کی آخری سانس تک اس کے عملی امین رہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جامعہ اسلامیہ سے اسلامیات میں بی۔ اے۔ کی تعلیم حاصل کی۔ ۲۰۱۱ء میںمجھ خاسکار کا پہلی مرتبہ جب دہلی جانا ہوا۔ اس وقت ہم اپنے بڑے بھائی عبدالواسع صاحب کے فرزند اوّل مسمی محمد عبدالوحید (عرف شعیب انجینئر) کے ہمراہ دہلی کسی کام کے نسبت سے جاناہوا۔ تب خواہش ہوئی کہ بستی نظام الدین اولیاءؒ کی مزارشریف کی زیارت کرلیں لہٰذا اپنے بھتیجے شعیب کے ساتھ بستی نظام الدین میں مزار شریف کی زیارت و فاتحہ خوانی کا شرف حاصل کئے۔ وہ دن جمعہ کا تھا لہٰذا نماز سے قبل ہمارے محسن و ساتھی جناب عبدالملک نظامی صاحب ناندیڑ کو فون لگائے ،کیونکہ وہ حضرت خواجہ حسن ثانی نظامیؒ کے مرید تھے۔ انھوں نے کہا اگر نظام الدین محبوب الٰہی کے روضے پر ہوتو ہمارے پیرومرشد خواجہ حسن ثانی نظامی قبلہ سے ملاقات بھی کرلیں۔ ان سے گھر کا پتہ پوچھ کر خواجہ صاحب کے گھر کی طرف چل پڑھے۔گھر پہنچ کر دروازے پر دستک دی خادم نور بھائی نے دروازہ کھولا اور عرض پوچھی ہم نے کہا ناندیڑ سے تشریف لائے ہیں اور جناب ملک نظامی صاحب نے خواجہ صاحب سے ملنے کو کہا ہے لہٰذا ملاقات کرنے کی اجازت ملے تو ہماری خوش قسمتی ہوگی۔ خادم نے ہم دونوں چچا بھتیجے کو دیوان خانہ کی بینچ پر بٹھا کر مکان میں گئے۔ حسن اتفاق تھا ۔ خواجہ صاحب اپنے حجرہ میں ناشتہ تناول فرمارہے تھے۔ جب خادم نے ہمارے آنے کی اطلاع دی ۔ آپ نے ناندیڑ کی نسبت سے حجرہ میں آنے کی اجازت دے دی۔ جب ہم گھر میں داخل ہوئے توحجرے میں جانے سے پہلے چند سیڑھیاں تھی ہم اپنی جوتیاں وہیں اُتار دینے کی کوشش ہی کررہے تھے کہ خواجہ صاحب نے اندر سے ہی خادم کو آواز دے کہ کہا جوتیوں سمیت اوپر آنے دو اورہم نے دروازے سے قبل جوتیاں اتاردی۔ اس عمل نے ہم پر ایک عجیب کیفیت طاری کردی۔ خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی سلام دعا کے بعد خواجہ صاحب نے فرمایا میاں ’’اگر آپ جوتیاں سیڑھیوں سے قبل اُتار دیتے تو دروازہ آنے تک آپ کے پیروں سے سیڑھیوں کی دھول اور گرد کمرے تک آجاتی ۔ جس سے باوضو لوگوں کا وضو مکرو ہو نے کا خدشہ رہتا ۔اُس وقت خواجہ صاحب کے ناشتہ کا وقت تھا اور خواجہ صاحب کے ساتھ آپ کے بھتیجے حضرت سیّد محمد نظامی صاحب بھی موجود تھے۔ چند مریدین بھی خواجہ صاحب کے سامنے بیٹھے تھے ہم دونوں سے خواجہ صاحب نے ناندیڑکے حالات اور دکن حیدرآباد کے علاقہ سے متعلق باتیں کی اور دہلی آنے کی وجہ دریافت کی اور دیگر مریدین کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی گفتگو فرماتے رہےاور ساتھ ناشتہ کرنے کاحکم دیا۔ خادم نے ہمیں بھی ناشتہ کے ساتھ پانی اور چائے سے نوازا اس دوران ہم کو خواجہ صاحب کے ساتھ ۲ گھنٹے ساتھ گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔حضرت خواجہ صاحب کی ضیافت اور آپ کے حسن سلوک کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ ایک اجنبی کی ملاقات کے لئے اتنا وقت دینا آپ کے اعلیٰ اخلاقی اقداراور طرز زندگی کو ظاہر کرتاہے۔ خواجہ صاحب نے مجھ حقیر اور ہمارے بھتیجے کو دعائوں سے نوازا اور ہمارے مستقبل کے عزائم و مقاصد کی تکمیل کی کامیابی اور کامرانی کے لیے دعائیں دیں۔ بعد از ہم اجازت لے کر جمعہ کی نماز مسجد مرکز نظام الدین میں اداکیئےشاید خواجہ صاحب کی اُن ہی دعائوں کا نتیجہ ہے کہ پھر مجھ خاکسار کا بعد میںشولا پور یونیورسٹی میںپی۔ ایچ ڈی کا رجسٹریشن ۲۰۱۲ء میں ہوا۔رجسٹریشن کے بعد مختلف ادیب وشعراء کے عنوانات پرمقالہ لکھنے کی خواہش تھی مگر ہمارے دوست و ساتھی جناب عبدالملک نظامی (مرید خواجہ حسن ثانی نظامی فخر دہلیؒ) کے مشورے اور مواد کی دستیابی کی گواہی پر ہم نے ہمارے Ph.Dکامقالہ بعنوان’’حضرت خواجہ حسن نظامیؒ ادبی خدمات کا مطالعہ‘‘ اس عنوان کے تحت اپنی فلسلفہ کی ڈگری حاصل کی۔۲۰۱۱ء کی پہلی ملاقات سے آج تک خواجہ حسن نظامیؒ کے کتب اور ادبی و ثقافت پر مبنی تمام ترمواد محترم حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی ؒاور ان کے جانشین حضرت خواجہ سیّد محمد نظامیؒ (فخردہلی جانشین سجادہ نشین حضرت نظام الدین اولیاء محبوب الٰہیؒ )کے ذریعہ حاصل ہوئی اور اس عرصہ میں ہمارے لیے آپ نے علمی و ادبی اور روحانی حکایت بھری گفتگو اور ہدایت اورنصیحت کے ذریعہ ہماری ہمت اور حوصلہ افزائی فرمائی۔اس کے بعد مجھ خاکسار کوہر سال خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے عرس، حضرت امیر خسرو اور خواجہ حسن نظامی اور خواجہ حسن ثانی نظامیؒ کے عرس کے موقع پر ہونے والے سیمینار ،محفل ذکر و سماع کے پروگراموں میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اور ہم نے ہماری زندگی کا پہلا مقالہ حضرت خواجہ حسن نظامی کے عرس کے موقع پر اخترالواسع صاحب کی صدارت میں بعنوان’’ حضرت خواجہ حسن نظامیؒ کی مذہبی مفاہمت ‘‘پر خواجہ ہال میں پڑھا۔ خواجہ حسن ثانی نظامی صاحب اپنی صلاحیت ، دانشوری ، علم دوستی اور ایسے کئی وجوہات سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی سے کئی لوگ متاثر تھے اور آپ کے بڑے حامی تھے۔ ان ہی کارناموں کی وجہ سے تمام مذاہب کے رہنمائوں میں آپ بے پناہ مقبول تھے۔ ملک کی ملی جلی تہذیب و ثقافت اور دلی کی روایات کی پاسداری حسن خوبصورتی کے ساتھ آپ نے اپنی زندگی انجام دی وہ تمام باتیں ہماری تاریخ کا قیمتی حصہ ہمیشہ رہےگی۔ خواجہ حسن ثانی نظامی ؒ کی ایک اہم خوبی یہ تھی کہ وہ بڑی محبت فرمانے والے انسان تھے۔ نوجوانوں کی ہمت افزائی، چھوٹوں کے شفقت اور بڑوں کی حددرجہ عزت واحترام اُن کی پہچان تھی۔ خواجہ حسن ثانی نظامی ؒ میں جہاں سیکڑوں اخلاقی خوبیاں تھی وہیں وہ ایک سخی اور رحم دل انسان تھے۔ وہ ضرورت مندوں کی حاجت روائی کے ساتھ اپنے اسلاف کی سنتوں کو زندہ کرتے ہوئے خانقاہ کی عظمت کو قائم رکھا۔ خواجہ حسن ثانی نظامی ؒ کودہلی کی قدیم عمارتیں اور یہاںکی تہذیبی روایتیں اس قدر ازبر تھی کہ اگر آپ سے ان سے دہلی کی کسی بھی گلی، کوچے یا شخصیت کے بارے میں جاننا چاہتے تو وہ اس طرح بیان کرتے ان کے انداز بیان سے ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے ایک داستان گو وبستان دہلی کے تعلق سے چاشنی انڈیل رہاہو۔ وہ دہلی کی روایتی تہذیب و ثقافت کا چلتا پھرتا نمونہ تھے۔ خواجہ حسن ثانی کے علمی و ادبی کارنامے خواجہ حسن ثانی نظامیؒ علمی و ادبی اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھے۔ آپ نے اپنے والد خواجہ حسن نظامی مصور فطرت کی مختلف کتابوں اور رسالوں کو ایڈیٹ کرکے دوبارہ شائع کیا۔ اوریہ کارنامہ آپ کی بڑی علمی خدمت ہے۔تصوف اور صوفی روایت کے حوالے سے خواجہ صاحب کی کتاب ’’تصوف رسم اور حقیقت‘‘ ایک بے مثال تحقیقی کارنامہ ہے۔خواجہ حسن ثانی نظامی صاحب نے فوائد الفواد کا اُردو ترجمہ شائع کیا۔ خواجہ حسن ثانی نظامی صاحب کی شخصیت کا سب سے بڑا پہلو یہ بھی تھا کہ دہلی کی ٹکسالی زبان سلاستوں کےامین ، قلم کے شہ سوار، خلق سے بزرگان سلف کی بے پایاں صحبتوں اور انسانی قدروں سے آراستہ ہندوستان کی قدیم گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار دہلوی تاریخ و تمدن کے چلتے پھرتے انسائیکلو پیڈیا، ادیب، صحافی، محقق، تصوف، روحانی رہنما، صلح کامل اور انسانی یکجہتی کے مبلغ مومدید حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی دہلوی کے نطق سے پھول برستے تھے۔ بالکل اپنے والد کی طرح حضرت خواجہ حسن ثانی نظامیؒ اپنے شاہکار تراجم کے لیے معروف ہے۔ ان کے ترجموں میں طبع زاو تحریر جیسی رواں و شگفتگی ہے۔ خواجہ حسن ثانی نظامیؒ کے علمی کارناموں میں سب سے اہم حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہیؒ کے متبرک مجموعہ ملفوظات فوائد الفواد کا تحقیق شدہ اُردو ترجمہ ہے۔ خواجہ صاحب مقتدر مفسر قرآن حضرت مولانا فخر الدینؒ کی حیات و علمی کارناموں پر گرانقدر تحقیقی کتاب تالیف کی۔ خواجہ صاحب نے یہ کتاب اپنی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے منادی میں قسط وار شائع کی۔ حضرت خواجہ حسن ثانی صاحب کے دوسرے اہم کتابوں میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے حالات اور سیرت پر تذکرہ نظامی، حضرت امیر خسرو کی سوانح اور علمی و شعری کارناموں پر تذکرہ خسروی، مقبول ترین تحقیقی کاوش ہے۔ تصوف رسم اور حقیقت کے عنوان سے خواجہ حسن ثانی صاحب کی کتاب علم تصوف کے حوالے سے گرانقدر اور غیر معمولی تحقیقی کارنامہ ہے۔ اس کتاب میں متبرک مقالہ، بیعت کا طریقہ اور آداب، تصوف ، تاریخ و تہذیب، رسم و حقیقت سلوک میں تعلیم و تربیت کی اہمیت صوفی سلسلے، انسانی وحدت اور اخلاق، اجمیر کا عرس اور اس کے فائدے، رسم و رواج پر تصوف اور بھکتی کے اثرات ،ایسے مضامین شامل ہیں۔ حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی دہلوی کا نام ہندوستانی تاریخ و تمدن بالخصوص دہلوی تہذیب و تاریخ کے ماہر صوفی اسکالر کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔ خواجہ صاحب نے جشن دوہزار سالہ پر منعقد اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس میں ہندوستانی صوفیائے کرام کی نمائندگی کی تھی۔ جہاں اسلامی تاریخ و تمدن کے موضوعات پران کے پر مغز خطبات سے لاکھوں اہل علم و دانش متاثر ہوئے۔ آپ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹیڈیز مارشیس، جنوبی افریقہ، ڈربن جوہانبرگ کے عملی و تہذیبی اداروں میں لیکچر دیے۔ ملک کے متعدد ہندو، سکھ اور عیسائی سیاسی و سماجی رہنما آپ کے حلقہ احباب اور ارادت مندوں میں شامل رہے۔ آپ ایک ایسے مسلمان مذہبی روحانی رہنما تھے جن کا سخت گیر مخالف آر۔ ایس ۔ ایس اور وشوا ہندو پریشد وغیرہ متعصب تنظیموں کے لوگ بھی آپ کا احترام کرتے تھے۔ آپ کی ہمہ گیر قومی و سماجی خدمات کے اعتراف میں حکومت دہلی نے انھیں دہلی گورو(فخر دہلی) کے اعزاز سے نوازاگیا۔ خواجہ کی رحلت ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۵ء کو علیل رہنے کی وجہ سے اپنے گھر بستی نظام الدین اولیاء میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے اور خواجہ ہال میں واقع ان کے والد حضرت خواجہ حسن نظامی کے پہلو میں تدفین عمل میں آئی۔ خواجہ حسن ثانی نظامی فخر دہلوی کی رحلت سے دہلوی تہذیب ، تصوف، ادب اور ثقافت کا ایسا نقصان عظیم ہے جس کی تلافی ممکن نہیں لیکن ان کی تعلیمات اور قلمی خدمات کروڑوں دلوں میں زندہ رہیگی۔ )بحوالہ : خراج عقیدت یادگاری مجلہ ازسیّد محمد نظامی۔(
آہ ۔ خواجہ سیّد محمد نظامیؒ،محب اُردو نہیں رہے!۔۔۔۔۔
اِنَّا للہ و انا الیہ راجعون۔۔ ۷؍فروری ۲۰۲۶ء کو بعد مغرب واٹس ایپ اور ٹی۔ وی کے ذریعہ خبرملی کہ دہلی رتن، سجادہ نیشن حضرت خواجہسیّد محمد نظامیؒ کے گھر گیاس گیزر کے پھٹ جانے کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ یہ خبر انتہائی غمگین کرگئی۔ دل و دماغ اس خبر کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوا۔ شہیدسیّد خواجہ محمد نظامیؒ سے ہماری پہلی ملاقات ۲۰۱۱ء میں خواجہ حسن ثانی نظامیؒ کی ملاقات پر ہوئی تھی۔ اس وقت سے پہلے نہ ہم خواجہ حسن ثانی نظامی صاحب کو جانتے تھے ناہی سیّد محمد نظامی کی شخصیت سے واقف تھے۔ ہماری دوسری ملاقات ہماراPh.Dرجسٹریشن ۲۰۱۳ میں شولاپور یونیورسٹی میںفلسفہ اُردوریسرچ اسٹوڈینٹ کے طورپر ہوا تب ہم کسی ادیب یا شاعر کی ادبی خدمات پر ریسرچ کرنا چاہتے تھے۔ریسرچ یہ موضوع کے انتخاب میں بہت ساری مشکلات و مسائل سے گذرنے کے بعد ہمارے محسن ودوست جناب عبدالملک نظامی کے مشورہ اور اصرار پر ہم نے ہمارا مقالہ کا عنوان ’’حضرت خواجہ حسن نظامی دہلوی کی ادبی خدمات کا مطالعہ‘‘ طے کیا۔ عنوان کا انتخاب طے ہونے پر ہمارے پاس خواجہ حسن نظامی دہلوی کی صرف ایک تصنیف ’’سی پارہ دل ‘‘ کے علاوہ کوئی دوسری کوئی کتاب نہیں تھی۔ ہمارے گائیڈ محترم ڈاکٹر شفیع چوبدارصاحب کے ہدایت اوررہنمائی پر مقالہ کے مواد اور حوالہ جات کی کتابوں کے سلسلے میں جناب محمد مجیب خاں نظامی اور عبدالملک نظامی، جیلانی خان نظامی و دیگر مریدین خواجہ حسن نظامی نظامیہ جماعت ناندیڑ کے ذمہ داران سے ملاقات کرکے مشہورہ و رہنمائی حاصل کرنے پر سبھی حضرات نے مشورہ دیا آپ ہمارے پیرومرشد حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی اورسیّد محمد نظامی قبلہ سے ملاقات کریں اور ان سے دیگر کتابوں اور رسالہ منادی سے متعلق بات کریں اگر وہ آپ کے مقالہ کی تکمیل کے لیے خواجہ حسن نظامیؒ کی تالیف وتدوین کی گئی کتب اور رسالے عنایت کردیں تو اپنے مقالے کے لئےمواد دستیاب ہو جائے گا۔ آخر کار ہم ۱۴۔۲۰۱۳ میں حضرت خواجہ حسن نظامی دہلوی مصورفطرت کے عرس شریف میں ناندیڑ کےاحباب کے ساتھ دہلی پہنچے۔ بستی نظام الدین میں خواجہ حسن نظامی صاحب کے گھر عرس کی وجہ سے خواجہ صاحب کے سیکڑوں مریدین موجودتھے حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی( سجادہ نشین حضرت محبوب الٰہی نظام الدین اولیاءؒدہلی) اور حضر ت خواجہ سیّد محمد نظامی صاحب سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا۔جب سیّد محمد نظامی صاحب نے جب ہم سے آمد کی وجہ پوچھی تو اُنھیں بتایا کہ ہم اُردو Ph.Dریسرچ اسٹوڈینٹ کے حیثیت سےحضرت خواجہ حسن نظامیؒ کی شخصیت پر مقالہ لکھ رہے ہیں تووہ بہت خوش ہوئے اور بڑی خنداں پیشانی سے مصافحہ کیا اور کہا ہم سے جو کچھ کتابیں دستیاب ہوگی وہ آپ کو دینگے مگر اس وقت عرس کی وجہ سے بہت مصروفیت ہوتی ہے آپ خصوصی طورپر آئیںتو ان شاء اللہ دستیاب کتب آپ کو سپرد کردیںگے۔ آج رات خواجہ حسن نظامیؒ کے سالانہ عرس میں سیمنیار منعقد ہے آپ اگر اپنا مقالہ سے متعلق کوئی مضمون پڑھنا چاہتے ہیں تو آپ آج کے سیمینار میں اپنا مضمون پڑھ سکتے ہو۔سیّد محمد نظامی صاحب کا یہ جملہ مجھ طالب علم کے لیے سب سے قیمتی و سنہری موقع اور اعزاز تھا کہ ایک ریسرچ اسکالر اپنے مقالے کے لیے پہلا مضمون خواجہ حسن نظامی ؒکی مذہبی مفاہمت کے عنوان پر پڑھنے کا موقع ملا اور اس سیمینار کی صدارت ہندوستان کے معروف ادیب و محقق پروفیسر اختر الواسع کررہے تھے اور خواجہ حسن ثانی نظامی قبلہ اورناظم سیمینارسیّد محمد نظامی موجود تھے ، دہلی اور ملک کے مختلف ریاستوں کے یونیورسٹی سے آئے ہوئے اکابرین اور اسکالر س، پروفیسرس اور خواجہ حسن ثانی نظامی کے مریدین کی موجودگی میں خاکسارنے اپنا پہلامضمون پڑھا۔ یہ موقع صرف اور صرف سیّد محمد نظامی کی اُردو دوستی، خواجہ حسن نظامی و خواجہ حسن ثانی نظائی جیسے اسلاف کی سرپرستی اورسلسلہ نظامیہ کی خدمات اور نسبت نظام الدین اولیاء ؒ کی برکت و فیض سے حاصل ہو سکا۔ حضرت خواجہ ابوطالب حسن ثانی نظامیؒ (فخر دہلی خلیفہ و جانشین حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہیؒ دہلی)کی رحلت ۱۵؍مارچ ۲۰۱۵ء کو سخت علیل رہنے کی وجہ سے اپنے گھرواقع بستی نظام الدین اولیاءؒ دہلی میں ہوئی۔ حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی کا تعلق خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ سے تین واسطوں سے ہے۔والد کی جانب سے اول نبیرگان، دوم خواہرزادگان اور والدہ کی جانب سے قاضی زادگان اسی طرح آپ ہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ؒاور حضرت خواجہ حسن نظامیؒ دہلوی کے حقیقی متولی اور جانشین تھے ۔ حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی فخر دہلی بھی حضرت نظام الدین محبوب الٰہیؒ کی پیروی میں مجرد رہے اس لیے آپ نے اپنی وفات سے قبل اپنے چھوٹے بھائی حضرت خواجہ سیّد مہدی نظامی کے فرزند ارجمند حضرت خواجہ سیّد محمد نظامی مدظلہ العالی کو اپنا جانشین و سجادہ نشین مقرر کیا۔ خواجہ حسن ثانی نظامیؒ نے حلقہ نظامیہ کے تحت رسالے منادی میںخواجہ سیّد محمد نظامی کی ولادت با سعادت سے متعلق لکھتے ہیں۔ ’’۲۲؍نومبر ۱۹۷۸ء کو اللہ تعالیٰ نے میرے چھوٹے بھائی خواجہ مہدی نظامی کو فرزندعطا فرمایا۔ان کی بیوی سیّد گل رعنا نے بچہ کو ولادت سے قبل خواب میں حضور سرور کائنات محمد مصطفیٰ ﷺ کی زیارت کی تھی اس خواب کی وجہ سے نیز اس مناسبت سے کے ہمارے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہیؒ کا اسم گرامی میںسیّد محمد تھا اور جد اعلیٰ خواجہسیّد محمد امام نظامی تھے نومولود کا نامسیّد محمد نظامی رکھا گیا ہے۔سیّد محمد سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مہدی میاں کو ایک لڑکی عطا فرماچکا ہے جواب ماشاء اللہ چار سال کی ہے اورسیّدہ غزالہ اس کا نام ہے اس بچی کی پیدائش ۱۷؍ فروری ۱۹۷۵ء کوہوئی تھی۔ (بحوالی منادی۱۹۷۸) شہید خواجہ سیّد محمد نظامی کی خدمات: شہید حضرت خواجہ سیّد محمد نظامی کی ولادت ۲۲؍نومبر ۱۹۷۸ کو دہلی میں ہوئی۔ آپ مصورفطرت حضرت خواجہ حسن نظامیؒ کے پوتے اور حضرت خواجہ ابوطالب حسن ثانی نظامی کے بھتیجے اور حضرت خواجہ مہدی نظامیؒ کے بیٹے تھے۔ حضرت خواجہ ابوطالب حسن ثانی نظامی کے رحلت سے قبل خواجہ صاحب نےسیّد محمد نظامی کو اپنا جانشین و سجادہ نشین حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہیؒ دہلی مقرر کیا۔ خواجہ حسن ثانی نظامی نے سایے کی طرح اپنے ساتھ رہنے والے برادر عزیزسیّد مہدی نظامی کے ناوقت انتقال کے بعد ان کے فرزند ارجمند خواجہسیّد محمد نظامی کی پرورش و تربیت فرمائی اورانھیں دنیوی علوم کے ساتھ ساتھ سلوک و معرفت کے سانچے میں ڈھال کر اپنا سچا جانشین بنایا۔ خواجہسیّد محمد نظامی حضرت کے خلیفہ اور آستانہ عالیہ محبوب الٰہیؒ کے خادم اور چشتیہ بزرگوں کی تعلیمات ، روایات اور اقدار کے وارث و امین ثابت ہوئے۔ ۲۰۱۵ء میں خواجہ حسن ثانی نظامیؒ کے وصال کے بعدسے ہی سیّد محمد نظامی نے اپنے دادا مصور فطرت حضر ت سیّد خواجہ حسن نظامی، تایا حضور ومرشد فخر دہلی حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی کی شاندار روایات کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ قائم رکھا۔ روضہ خواجہ حسن نظامی کے روحانی مرکز خواجہ ہال میں محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ ، طوطی ہند حضرت امیر خسروؒ ، مصور فطرت حضرت خواجہ حسن نظامیؒ اور حضرت خواجہ حسن ثانی نظامی ؒ کے مقدس اعراس کے شاندارانعقاد، خانقاہی رسومات، محافل ذکر و سماع، لنگر شریف وغیرہ کا بڑے پیمانے پر انعقاد کرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے علمی ادبی اور صحافتی سرگرمیوں اور ادبی، روحانی سیمیناروں کا باقاعدہ انعقاد نہ صرف قائم رکھا بلکہ ان سرگرمیوں کو مزید وسعت اور شان و شوکت عطاکی۔سیّد محمد نظامی نے ۲۰۱۵ء سے ۲۰۲۶ء تک گذشتہ دس برسوں میں تصوف، سلوک، معرفت، اصلاح معاشرہ اور علم و ادب کے فروغ کے لیے صحافت و طباعت اور اشاعت کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ خواجہ حسن نظامی ؒ کے عالمگیر صوفی جریدے ’’منادی‘‘ کو عصری تقاضوں کے تحت عبدالملک (ناندیڑ) کی ادارت میں آن لاین جاری کرایا۔ حضرت مصورفطرت کے ترتیلی قرآن کریم اور ہندی ترجمہ حضرت نظام الدین اولیاء کے ملفوظات کا مجموعہ’’فوائد الفواد‘‘ کے بشمول بہت سی پرانی و نئی کتابوں کو جدید طریقے سے دوبارہ شائع کیا۔ اس حقیر بندہ ریسرچ اسٹوڈینٹ کی Ph.Dکے مقالہ ’’حضرت خواجہ حسن نظامی ؒ حیات اور ادبی خدمات‘‘ کو کتابی شکل میں خواجہ سیّد محمد نظامی صاحب نے خوداپنے خرچ سے شائع کروائی۔ اتناہی نہیں سیّد محمد نظامی صاحب قبلہ نے عالمی جماعت نظامیہ کی جانب سے پہلا’’ شمس العماء حضرت خواجہ حسن نظامی ایوارڈ‘‘ ۲۰۲۳ء مورخہ ۷؍جولائی ۲۰۲۳ء کو خواجہ ہال بستی نظام الدین اولیاء ؒ نئی دہلی میں منعقد سالانہ عرس حضرت خواجہ سیّد خواجہ حسن نظامی دہلویؒ کے آل انڈیا سمینار میں عالمی جماعت نظامیہ کے صدر اور دیگر اسکالرس، پروفیسرس اور چشتی نظامی سلسلے کے اکابرین اور مرید دین خواجہ نظام الدین اولیاء خواجہ حسن نظامی کی کثیر تعداد کی موجودگی میں بدست صدر سیمینار محترم پروفیسر اختر الواسع ، جنا ب سیّد محمد نظامی قبلہ (صدر عالمی جماعت نظامیہ اور سجادہ نشین حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی دہلوی) جناب ڈاکٹرسیّد فاروق صاحب (ایم ۔ ڈی۔ ہمالیہ ڈرگس) جناب فاروق ارگلی صاحب، ڈاکٹر عقیل احمد (سکریٹری غالب اکیڈیمی دہلی) جناب پیر پاشا نظامی (اوونی)درویش ملّا خالد نظامی صاحب ، جناب محمد شافی نظامی صاحب کے ہاتھوں عالمی جماعت نظامی کا پہلا بین الاقوامی شمس العماء حضرت خواجہ حسن نظامی ایوارڈ ۲۰۲۳ء کی شیلڈ اور سند سے نوازااور نقد پچیس ہزار روپئے نذر پیش کر کے مجھ ناچیر کی پذیرائی فرمائی ۔ یہ مجھ طالب علم و اسکالر کے لیے باعث فخریہ اعزاز وعزت افزائی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ شہید خواجہ سیّد محمد نظامی کی رحلت کے بعد ان کے خراج عقیدت پر جو مجلہ شائع ہوا ۔ بعنوان خراج عقیدت شہید حضرت سیّدمحمد نظامی ؒ (سجادہ نشین درگاہ محبوب الٰہی نظام الدین اولیاء ؒ دہلی) از :خواجہ سیّدمحمد شافی نظامی (جانشین فخر دہلی حضرت خواجہ سیّد خواجہ حسن ثانی نظامی ؒ) کے اس مجلہ میں دنیا کے نامور اور متعبر ادیب اور حلقہ چشتی نظامیہ کے خلیفہ ، خادمین، سجادہ نشین کے خراج عقیدت کے مضامین کے ساتھ مجھ ناچیز کی Ph.Dکی کتاب میں خواجہ سیّد محمد نظامی نے جو اظہار ِ خیال تحریرکیا تھا وہ ۴صفحات پر مشتمل مضمون شامل کرکے مجھ خاکسار کو عزت سے نوازا ہے۔ آہ۔سیّد خواجہ محمد نظامیؒ ۷؍فروری ۲۰۲۶ء کو بعد مغرب خبرملی کہ دہلی رتن سجادہ نشین حضرت خواجہ سیّد محمد نظامی رحلت فرماگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ شہیدسیّد محمد نظامی صاحب ؒ کے تمام اہل خانہ ، قرابت داروں، سلسلہ نظامیہ کے ان کے مریدوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ہماری رب العالمین سے یہی دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب کے صدقے میں اور چشتیہ نظامیہ سلسلے کے بزرگوں کے صدقہ میں شہید محمد نظام الدینؒ صاحب کی قبر کو نور سے بھردیں ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دیں اور ان کے جانشین سیّد محمد شافی نظامی کو ان کے ادھورے مشن اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل کر پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائیے۔ آمین ثم آمین۔

By Afzal Maglori
for
Hazrat Hasan Nizami
Hazrat Hasan Sani Nizami

लुबना निज़ामी
लेखिका एवं प्रशासक
हज़रत ख़्वाजा हसन सानी निज़ामी (र.अ.)
"सूरह बुर्ज़ की रोज़ाना तिलावत"
पीरो मुर्शिद सरकार हज़रत ख़्वाजा हसन सानी निज़ामी (र.अ.) आप रोज़ाना सूरह बुर्ज़ की तिलावत करते थे और फ़रमाया कि सूरह बुर्ज़ रोज़ाना पढ़ने वाले को कोई बड़ी बीमारी जैसे कैंसर नहीं होता।
बेशक क़ुरआन हिकमत से भरा हुआ है।
हज़रत सैयद मोहम्मद निज़ामी (र.अ.)
"बुज़ुर्गों की पहचानने वाली नज़र"
एक बार एक सेमिनार में हज़रत निज़ामुद्दीन दरगाह पुलिस स्टेशन से एक पुलिस अधिकारी तशरीफ़ लाए। हज़रत सैयद मोहम्मद निज़ामी साहब ने उनकी तारीफ़ करते हुए फ़रमाया कि मैं इन पुलिस अधिकारी से बहुत मुतासिर हुआ हूँ।
जब मेरी उनसे मुलाक़ात हुई, तो मैंने देखा कि उनकी वर्दी एक जगह से फटी हुई थी, जिसे रफ़ू करके सिला गया था। उनकी इस सादगी और बेनियाज़ी को देखकर उनके किरदार में छिपी ईमानदारी और सच्चाई का अंदाज़ा होता है।
उस वक़्त मुझे यह एहसास हुआ कि बुज़ुर्गाने-दीन की नज़र केवल इंसान के ज़ाहिरी हाल पर नहीं होती, बल्कि उनकी निगाह दिल और किरदार की उन बारीकियों तक पहुँचती है जिन्हें आम नज़र अक्सर नज़रअंदाज़ कर देती है।
वे छोटी-छोटी बातों में छिपी सादगी, ख़ुलूस, ईमानदारी और बेनियाज़ी को पहचान लेते हैं और फिर अपनी नज़र-ए-फ़ज़्ल से उन खूबियों को लोगों के सामने लाते हैं। यही बुज़ुर्गों की निगाह की ख़ासियत है—वे इंसान की पोशाक नहीं, उसके किरदार को देखते हैं और उसके ज़ाहिर से आगे उसके बातिन की झलक पहचान लेते हैं।